مجھے ایک بات کی کبھی سمجھ نہیں آئی کہ کسی بچے کیلئے نالائق، احمق، کند ذہن اور نکمہ جیسے الفاظ استعمال کرنے والے افراد بالخصوص اساتذہ اور والدین بچوں کی کمزوری دور کرنے کیلئے کیا کرتے ہیں؟ کسی مسئلے کو لے کر دہائیاں دینے اور جلی کٹی سنانے سے کیا کبھی مسئلہ حل ہوا ہے ؟ مسائل کے حل کیلئے مکمل یکسوئی سے مسائل کے تمام تر پہلوؤں کی جانچ کرنی چاہیے اور پھر اُس کے ممکنہ حل کی جانب بڑھنا چاہیے۔ بچوں کے تعلیمی سفر میں والدین اور اساتذہ کی ذرا سی بے دھیانی اور کوئی بھی غلط قدم بچے کی زندگی پر ہمیشہ کیلئے منفی اثرات مرتب کرنے کا باعث بنتاہے، اِس لیے بچوں کی تعلیمی کارکردگی کی جانچ اور اُسے بہتر بنانے میں حد درجہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
ضروری ہے کہ آپ کو پتہ ہو کہ:
- آپ کا بچہ کس مضمون میں زیادہ دلچسپی لیتا ہے؟
- کس مضمون میں اُس کی کارکردگی کمزور ہے؟
- کیا وہ نئے افراد سے میل جول کرلیتا ہے؟ اگر نہیں تو کیوں؟
- کیا وہ اپنی عمر کی مناسبت سے بلند خوانی (ریڈنگ) کر پاتا ہے؟
- کیا اُس کا املا درست ہے؟
- کیا وہ کسی بھی شکل میں اپنے خیالات کا اظہار کر پاتا ہے ؟
یاد رکھیں آپ کی ذرا سی توجہ اور درست سمت میں اُٹھایا گیا ایک قدم آپ کے بچے /بچی کو کامیابی کی راہ پر گامزن کرسکتا ہے جبکہ آپ کی ذرا سی بے احتیاطی یا جذبات میں اُٹھایا گیا کوئی بھی قدم آپ کے بچے /بچی کو عملی زندگی کے پُر پیچ راستوں میں بھٹکانے کی وجہ بن سکتا ہے۔

