Thursday, February 21, 2019

کیا کچھ بچے واقعی نالائق ہوتے ہیں؟

تعلیمی دنیا میں سالانہ امتحانات سے پہلے ہر اسکول میں ’پیرنٹس ٹیچرز‘ میٹنگ کا سیزن تقریباً شروع ہو چکا ہے ۔ اِن میٹنگز میں شرکت اور انعقاد کے وسیع تجربے کی روشنی میں مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہر اسکول  بیشتر بچوں کے والدین کو بچے کے کمزور یا پھر نالائق ہونے کا عندیہ دے گا اور جتائے گا کہ ہمارا کام تو آپ کو بتانا تھا سو ہم نے بتا دیا ، اب آپ کچھ کریں۔والدین گھر جا کر بچے کو جلی کٹی سنائیں گے کہ تمھارے تمام تر تعلیمی اخراجات اتنی مشکل سے برداشت کرنے کے بعد بھی تم نہیں پڑھ پاتے تو ہمیں بتاؤ کہ ہم آخر کیا کریں۔

بچے کے پاس اپنے اساتذہ کے الزامات اور والدین کے سوالات کا جواب کہاں سے آئے؟ سو وہ بیچارہ مختلف طرح کی نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار ہونے کے علاوہ کیا کرسکتا ہے۔

ہمارے بیشتر بچوں کا ایک المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی مخصوص مضمون میں کمزور ہوتے ہیں لیکن اُن کے تعلیمی ادارے اُن کی کمزوری دور کرنے کے بجائے ’’آگے دوڑ، پیچھے چھوڑ‘‘ کے فلسفے پر عمل پیرا رہتے ہیں جس کی وجہ سے کمزور فاؤنڈیشن کی وجہ سے بڑی کلاسز میں آنے کے بعد اُن بچوں کو ’’نالائق‘‘ کردانتے ہوئے نظر انداز کردیا جاتا ہے اور یوں وہ بچے تا عمر نالائقی کا داغ ماتھے پر سجائے عملی زندگی میں ناکامیوں سے دوچار رہتے ہیں۔ 

ضرورت اِس امر کی ہوتی ہے کہ بچوں کی خود اعتمادی کو ٹھیس پہنچائے بغیر اُن کی کمزوری کا ادراک کیا جائےاورجن ایریاز میں وہ کمزور ہوں اُن پرخصوصی توجہ دی جائے، ہمارا ’’نیڈ بیسڈ ایجوکیشن پروگرام‘‘ ایسے بچوں کیلئے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہے۔

1 comment:

بچے کیلئے نالائق، احمق، کند ذہن اور نکمہ جیسے الفاظ

مجھے ایک بات کی کبھی سمجھ نہیں آئی کہ کسی بچے کیلئے نالائق، احمق، کند ذہن اور نکمہ جیسے الفاظ استعمال کرنے والے افراد بالخصوص اساتذہ او...